چھوٹی عمر کی لڑکیوں کی شادی کے بارے میں اسلامی رہنمائی: بوڑھے مردوں سے شادیوں سے گریز
فہرست
1. یہ ایک بیوقوفانہ عمل ہے۔
2. ایسی شادی کے نتائج۔
3. اگر وہ زنا کرے تو بوڑھا شوہر ہی اس کا سبب ہوگا۔
4. لڑکیوں کی شادی جوان اور خوبصورت نیک مردوں سے کرو۔
· الف) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
· ب) ابن نجیم الحنفی
· ج) تکملۃ المجموع
· د) نہایۃ المحتاج
· ہ) ابن عابدین
· و) ابن جوزی
5. نبی کریم ﷺ نے جوان اور بوڑھے کے درمیان شادی کا عقد تجویز نہیں فرمایا۔
· الف) ملا علی قاری کی شرح
6. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی کریم ﷺ سے شادی کے بارے میں کیا کہنا ہے؟
· الف) امام ابن شبرمہ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد اور ابن عینیہ، ثوری اور ابن مبارک کے استاذ)
· ب) امام شافعی اور ان کے ساتھی
· ج) امام نووی
· د) امام شوکانی نے تو یہاں تک کہا کہ وہ ایسی شادی سے بھاگ سکتی ہے۔
· ہ) ابن عثیمین
· و) شیخ محمود مہدی استنبولی
7. حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے نکاح (اللہ سب سے راضی ہو)۔
· الف) فقیہ الامۃ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا حتمی فیصلہ
8. خاتمہ
𝟏. یہ ایک بیوقوفانہ عمل ہے۔
امام ابن مفلح الحنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَمِنَ التَّغْفِيلِ أَنْ يَتَزَوَّجَ الشَّيْخُ صَبِيَّةً
“بوڑھے کا چھوٹی لڑکی سے نکاح بیوقوفی ہے۔”
الفوائد: 5/150
حنابلہ کی مشہور کتاب “الاقناع” میں البہوتی رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔
𝟐. ایسی شادی کے نتائج
عالم امام السفارینی حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فَإِنَّكَ إِنْ نَكَحْتَ وَأَنْتَ شَيْخٌ شَابَّةً (تَعِشْ) مَعَهَا (فِي ضَرَارِ الْعَيْشِ) مِنَ احْتِمَالِكَ لِمَا يَبْدُو مِنْهَا مِنْ بَذَاذَةِ اللِّسَانِ وَسُوءِ الْعِشْرَةِ وَالتَّبَرُّمِ مِنْكَ، وَذَلِكَ لِقِلَّةِ مَا تَجِدُ عِنْدَكَ مِنْ بَغِيَّةِ النِّسَاءِ وَطَلَبَتِهِنَّ، فَإِنَّ غَايَةَ مَقْصُودِ النِّسَاءِ الْجِمَاعَ الَّذِي عَجَزْتَ عَنْهُ لِكِبَرِ سِنِّكَ، فَأَنْتَ فِي سِنِّ الْكِبَرِ وَقَدْ غَلَبَتْ عَلَيْكَ الْبُرُودَةُ، وَهِيَ فِي سِنِّ الشَّبَابِ وَقَدْ غَلَبَتْ عَلَيْهَا الْحَرَارَةُ وَالشَّبَقُ
“اگر تم بوڑھے ہو کر کسی نوجوان لڑکی سے نکاح کرو گے تو تم اس کے ساتھ مصیبت کی زندگی گزارو گے۔ تمہیں اس کی بدکلامی، بدسلوکی اور تم سے بیزاری برداشت کرنی پڑے گی۔ یہ اس لیے کہ تم میں عورتوں کی مطلوبہ خواہشات (یعنی مباشرت) پوری کرنے کی طاقت نہیں رہتی، اور عورتوں کا بنیادی مقصد مباشرت ہوتی ہے جس سے تم بڑھاپے کی وجہ سے قاصر ہو۔ تمہاری عمر میں سردی (بے رغبتی) غالب ہے اور اس کی عمر میں گرمی (شدید خواہش) غالب ہے۔”
غذاء الألباب في شرح منظومة الآداب: 2/390
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم ایک جوان عورت سے نکاح کرو اور اپنی کمیوں کی وجہ سے اس کی ضروریات پوری نہ کر سکو تو وہ بدتمیز یا برا برتاؤ کر سکتی ہے۔ وجہ تم ہو، وہ نہیں۔ چونکہ وہ جوان، خوبصورت اور خواہشات سے بھری ہے، اور چونکہ عورتیں بھی وہی چاہتی ہیں جو مرد چاہتے ہیں، جیسے خوبصورتی اور اچھے اخلاق، تو اس کی مایوسی اسے ایسے رویے پر مجبور کر سکتی ہے۔
𝟑. اگر وہ زنا کرے تو بوڑھا شوہر ہی اس کا سبب ہوگا۔
امام السفارینی حنبلی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
إِنْ لَمْ تُحْبِسْهَا عَنْ نَيْلِ شَهَوَاتِهَا وَتَقْصِرَهَا عَلَيْكَ (تَرْضَ بِ) الْفِعْلِ (الرَّدِيءِ) وَهُوَ الزِّنَا الَّذِي هُوَ أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ بَعْدَ الشِّرْكِ وَالْقَتْلِ، وَكُنْتَ حِينَئِذٍ دَيُّوثًا وَالدَّيُّوثُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، فَخَسِرْتَ عِرْضَكَ وَتَنَغَّصَتْ عَلَيْكَ عَيْشَتُكَ، وَخَسِرْتَ آخِرَتَكَ، وَذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ
“اگر تم اسے اس کی خواہشات حاصل کرنے سے نہ روکو اور اسے صرف اپنے تک محدود نہ رکھو تو وہ برے فعل (یعنی زنا) پر راضی ہو جائے گی، جو شرک اور قتل کے بعد سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے۔ اس وقت تم “دیوث” بن جاؤ گے اور دیوث جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ چنانچہ تم اپنی عزت کھو دو گے، تمہاری زندگی تنگ ہو جائے گی، اور تم اپنی آخرت بھی گنوا بیٹھو گے۔ یہ واضح خسارہ ہے۔”
غذاء الألباب في شرح منظومة الآداب: 2/390
𝟒. لڑکیوں کی شادی جوان اور خوبصورت نیک مردوں سے کرو اور بوڑھوں سے بچو۔
الف) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
(فَيَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى ابْنَتِهِ فَيُزَوِّجُهَا الْقَبِيحَ الذَّمِيمَ إِنَّهُنَّ يُرِدْنَ مَا تُرِيدُونَ)
“تم میں سے کوئی اپنی بیٹی کا نکاح بدصورت اور قابل مذمت شخص سے کر دیتا ہے، حالانکہ عورتیں بھی وہی چاہتی ہیں جو تم چاہتے ہو!”
مصنف عبد الرزاق، کتاب النکاح: 6/158
ب) امام ابن نجیم الحنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَالْمَرْأَةُ تَخْتَارُ الزَّوْجَ الدِّينَ الْحَسَنَ الْخُلُقِ الْجَوَادَ الْمُوسِرَ، وَلَا تَتَزَوَّجُ فَاسِقًا، وَلَا يُزَوِّجُ ابْنَتَهُ الشَّابَّةَ شَيْخًا كَبِيرًا، وَلَا رَجُلًا دَمِيمًا وَيُزَوِّجُهَا كُفُؤًا، فَإِنْ خَطَبَهَا الْكَفْءُ لَا يُؤَخِّرُهَا، وَهُوَ كُلُّ مُسْلِمٍ تَقِيٍّ
“عورت کو چاہیے کہ ایسے شوہر کا انتخاب کرے جو دیندار، اچھے اخلاق والا، سخی اور مالی طور پر مستحکم ہو۔ وہ فاسق سے نکاح نہ کرے۔ اسی طرح ولی اپنی جوان بیٹی کا نکاح بوڑھے یا بدصورت آدمی سے نہ کرے بلکہ اس کا نکاح ہم پلہ (کفو) سے کرے۔ اگر کوئی ہم پلہ رشتہ مانگے تو اس میں تاخیر نہ کرے۔ ہم پلہ سے مراد ہر پرہیزگار مسلمان مرد ہے۔”
البحر الرائق: 3/143
ج) تکملۃ المجموع [16/139] میں ذکر ہے:
يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ إِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ بِرَجُلٍ أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْهِ، لِأَنَّهُ يُعْجِبُهَا مِنْهُ مَا يُعْجِبُهُ مِنْهَا، وَلِهَذَا قَالَ عُمَرُ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ –: ((لَا تُزَوِّجُوا بَنَاتِكُمْ مِنَ الرَّجُلِ الذَّمِيمِ، فَإِنَّهُ يُعْجِبُهُنَّ مِنْهُمْ مَا يُعْجِبُهُمْ مِنْهُنَّ)
“عورت کے لیے جائز ہے کہ اگر وہ کسی مرد سے نکاح کرنا چاہے تو اسے دیکھ لے، کیونکہ وہ اس میں وہی پسند کرتی ہے جو مرد اس میں پسند کرتا ہے۔ اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ‘اپنی بیٹیوں کا نکاح قابل مذمت (بدصورت) مرد سے مت کرو، کیونکہ وہ (عورتیں) مردوں میں وہی پسند کرتی ہیں جو مرد عورتوں میں پسند کرتے ہیں۔'”
د) نہایۃ المحتاج [6/183] میں مذکور ہے:
وَتَسْتَوصَفُ كَمَا فِي الرَّجُلِ
“عورت بھی مرد کی صفات معلوم کر سکتی ہے، جیسے مرد عورت کی صفات معلوم کرتا ہے۔”
ہ) امام ابن عابدین رحمہ اللہ اپنی حاشیہ “رد المحتار” [6/37] میں فرماتے ہیں:
إِنَّ الْمَرْأَةَ أَوْلَى مِنَ الرَّجُلِ فِي النَّظَرِ
“بے شک نظر کرنے میں عورت مرد سے زیادہ حق رکھتی ہے۔”
و) امام ابن جوزی رحمہ اللہ “احکام النساء” (صفحہ 305) میں فرماتے ہیں:
أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لِمَنْ أَرَادَ تَزْوِيجَ ابْنَتِهِ أَنْ يَنْظُرَ لَهَا شَابًّا مُسْتَحْسَنَ الصُّورَةِ، لِأَنَّ الْمَرْأَةَ تُحِبُّ مَا يُحِبُّ الرَّجُلُ
“مستحب یہ ہے کہ جو شخص اپنی بیٹی کا نکاح کرنا چاہے اس کے لیے ایک خوبصورت جوان کا انتخاب کرے، کیونکہ عورت بھی وہی چاہتی ہے جو مرد چاہتا ہے۔”
ز) امام ابن جوزی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
وَأَبْلَهُ الْبُلَهِ الشَّيْخُ الَّذِي يَطْلُبُ صَبِيَّةً… فَإِذَا بَلَغَتْ أَرَادَتْ كَثْرَةَ الْجِمَاعِ وَالشَّيْخُ لَا يَقْدِرُ. فَإِنْ حَمَلَ عَلَى نَفْسِهِ لَمْ يُبْلِغْ مُرَادَهَا، وَهَلَكَ سَرِيعًا. وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُغْتَرَّ بِشَهْوَتِهِ الْجِمَاعَ، فَإِنَّ شَهْوَتَهُ كَالْفَجْرِ الْكَاذِبِ.
“سب سے بڑا بیوقوف وہ بوڑھا ہے جو جوان لڑکی کا طالب ہو… جب وہ جوان ہوتی ہے تو زیادہ مباشرت چاہتی ہے اور بوڑھا اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اگر وہ خود پر بوجھ ڈالے گا تو بھی اس کی خواہش پوری نہ کر سکے گا اور جلدی ہلاک ہو جائے گا۔ بوڑھے کو چاہیے کہ اپنی مباشرت کی خواہش سے دھوکہ نہ کھائے، کیونکہ اس کی یہ خواہش فجر کاذب کی مانند ہے۔”
صید الخاطر: صفحہ 420
𝟓. نبی کریم ﷺ نے جوان اور بوڑھے کے درمیان شادی کا عقد تجویز نہیں فرمایا۔
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے پیغام نکاح بھیجا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّهَا صَغِيرَةٌ
“وہ ابھی چھوٹی ہے۔”
سنن النسائی: 3221
الف) ملا علی قاری رحمہ اللہ نے شرح میں لکھا:
الْمُرَادُ أَنَّهَا صَغِيرَةٌ بِالنِّسْبَةِ إِلَيْهِمَا لِكِبَرِ سِنِّهِمَا وَزَوَّجَهَا مِنْ عَلِيٍّ لِمُنَاسَبَةِ سِنِّهِ لَهَا
“مراد یہ ہے کہ وہ (حضرت فاطمہ) ان دونوں (ابوبکر و عمر) کی نسبت سے چھوٹی تھیں کیونکہ وہ دونوں عمر میں کافی بڑے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا کیونکہ وہ عمر میں ان کے مناسب تھے۔”
مرقاة المفاتيح: 6104
𝟔. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی کریم ﷺ سے شادی کے بارے میں کیا کہنا ہے؟
الف) امام ابن شبرمہ رحمہ اللہ (جو حضرت انس رضی اللہ عنہ اور امام شعبی جیسے اکابر سے روایت کرتے ہیں، نیز امام ابن عینیہ، امام ثوری اور امام ابن مبارک رحمہم اللہ کے استاذ ہیں، اور کوفہ کے قاضی بھی تھے) فرماتے ہیں:
لَا يَجُوزُ إِنْكَاحُ الْأَبِ ابْنَتَهُ الصَّغِيرَةَ إِلَّا حَتَّى تَبْلُغَ وَتَأْذَنَ، وَرَأَى أَمْرَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا خُصُوصًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
“باپ کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی چھوٹی بیٹی کا نکاح کرے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے اور رضامندی دے۔” انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے کو نبی کریم ﷺ کے لیے خاص سمجھا۔”
المحلى بالآثار: 9/38
ب) امام شافعی اور ان کے ساتھیوں کا قول:
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَاعْلَمْ أَنَّ الشَّافِعِيَّ وَأَصْحَابَهُ قَالُوا: يُسْتَحَبُّ أَنْ لَا يُزَوِّجَ الْأَبُ وَالْجَدُّ الْبِكْرَ حَتَّى تَبْلُغَ وَيَسْتَأْذِنَهَا لِئَلَّا يُوقِعَهَا فِي أَسْرِ الزَّوْجِ وَهِيَ كَارِهَةٌ، وَهَذَا الَّذِي قَالُوهُ لَا يُخَالِفُ حَدِيثَ عَائِشَةَ؛ لِأَنَّ مَرَادَهُمْ أَنَّهُ لَا يُزَوِّجُهَا قَبْلَ الْبُلُوغِ إِذَا لَمْ تَكُنْ مَصْلَحَةٌ ظَاهِرَةٌ يُخَافُ فَوْتَهَا بِالتَّأْخِيرِ كَحَدِيثِ عَائِشَةَ، فَيُسْتَحَبُّ تَحْصِيلُ ذَلِكَ الزَّوْجِ لِأَنَّ الْأَبَ مَأْمُورٌ بِمَصْلَحَةِ وَلَدِهِ فَلَا يُفَوِّتُهَا
“جان لو کہ امام شافعی اور ان کے ساتھیوں نے کہا: مستحب یہ ہے کہ باپ یا دادا کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کرے جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے اور اس سے اجازت نہ لے لی جائے، تاکہ اسے ناپسند شوہر کے قید میں نہ ڈالے۔ ان کی یہ بات حدیث عائشہ کے خلاف نہیں، کیونکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ بلوغت سے پہلے نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ کوئی واضح مصلحت نہ ہو جس کے فوت ہونے کا ڈر ہو، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں تھا۔ ایسی صورت میں اس رشتے کو حاصل کرنا مستحب ہے کیونکہ باپ کو اپنی اولاد کی بھلائی کا حکم دیا گیا ہے، وہ اسے ضائع نہ کرے۔”
شرح مسلم: 9/206
ج) امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَإِنْ كَانَتْ صَغِيرَةً، لَمْ يَجُزْ تَزْوِيجُهَا، حَتَّى تَبْلُغَ وَتَأْذَنَ؛ لِأَنَّ إِذْنَهَا مُعْتَبَرٌ فِي حَالِ الْكِبَرِ، فَلَا يَجُوزُ الِافْتِيَاتُ عَلَيْهَا فِي حَالِ الصِّغَرِ
“اور اگر وہ چھوٹی بچی ہے تو اس کا نکاح جائز نہیں یہاں تک کہ وہ بالغ ہو اور اجازت دے، کیونکہ اس کی رضامندی بڑی ہونے کی حالت میں معتبر ہے۔ چھوٹی ہونے کی حالت میں اس پر فیصلہ تھوپنا جائز نہیں۔”
شرح المهذب: 17/322تعاون: شاہ رُخ خان
د) امام شوکانی رحمہ اللہ نے تو یہاں تک فرمایا کہ وہ ایسی شادی سے بھاگ سکتی ہے۔
أَمَّا مَعَ عَدَمِ الْمَصْلَحَةِ الْمُعْتَبَرَةِ، فَلَيْسَ لِلنِّكَاحِ انْعِقَادٌ مِنَ الْأَصْلِ، فَيَجُوزُ لِلْحَاكِمِ بَلْ يَجِبُ عَلَيْهِ التَّفْرِقَةُ بَيْنَ الصَّغِيرَةِ وَمَنْ تَزَوَّجَهَا، وَلَهَا الْفِرَارُ مَتَى شَاءَتْ، سَوَاءٌ بَلَغَتِ التَّكْلِيفَ أَمْ لَمْ تَبْلُغْ، مَا لَمْ يَقَعْ مِنْهَا الرِّضَا بَعْدَ تَكْلِيفِهَا
“بہر حال، جب معتبر مصلحت موجود نہ ہو تو نکاح بنیادی طور پر منعقد ہی نہیں ہوتا۔ لہٰذا حاکم (قاضی) کے لیے جائز بلکہ ضروری ہے کہ وہ چھوٹی بچی اور اس کے شوہر کے درمیان جدائی کرا دے۔ نیز اس بچی کے لیے ہر وقت بھاگنا جائز ہے، چاہے وہ تکلیف (بلوغت) کی عمر کو پہنچی ہو یا نہ، جب تک کہ بلوغت کے بعد اس کی رضامندی نہ ہو چکی ہو۔”
بل الغمام على شفاء الأوام: صفحہ 33تعاون: شاہ رُخ خان
ہ) شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ الصَّوَابُ، أَنَّ الْأَبَ لَا يُزَوِّجُ بِنْتَهُ حَتَّى تَبْلُغَ، وَإِذَا بَلَغَتْ فَلَا يُزَوِّجُهَا حَتَّى تَرْضَى
“یہی قول درست ہے کہ باپ اپنی بیٹی کا نکاح اس وقت تک نہ کرے جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے، اور جب بالغ ہو جائے تو اس کا نکاح اس وقت تک نہ کرے جب تک وہ راضی نہ ہو۔”
شرح الممتع: 12/57
و) شیخ محمود مہدی استنبولی فرماتے ہیں:
الْحَذَرُ مِنَ الزَّوَاجِ بِالصَّغِيرَةِ
“چھوٹی عمر کی لڑکی سے نکاح سے بچو۔”
میں تمام مردوں اور عورتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ایسا قبول نہ کریں، خصوصاً آج کے دور میں جب دین کے جذبات ماند پڑ رہے ہیں اور غلط رسومات کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔
تحفة العروس: صفحہ 42
𝟕. حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے نکاح (اللہ سب سے راضی ہو)۔
محلے کا مولوی:
“میں 60 سال کی عمر میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا کیونکہ حضرت عمر نے حضرت علی کی بیٹی ام کلثوم سے شادی کی تھی۔”
میں (جواباً): کیا آپ بھی 40,000 درہم مہر ادا کریں گے (جو آج کے دور میں بہت بڑی رقم ہے) اور ان کا بے حد احترام کریں گے جیسا حضرت عمر نے کیا، یا پھر انہیں مار مار کے رگید دیں گے؟
اپنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے موازنہ مت کریں، اے شرمناک مولوی! آپ تو شاید 1000 روپے مہر دیں گے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر انہیں ماریں گے اور اسلام کو غلط طریقے سے پیش کر کے اپنے فعل کو جائز ٹھہرائیں گے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے شادی اس لیے کی تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے رشتہ دار بننا چاہتے تھے، جیسا کہ انہوں نے خود بیان کیا ہے۔
آپ اس بات کو بھی رد کر دیں گے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “اپنی بیٹیوں کا نکاح بدصورت آدمیوں سے مت کرو” — جیسے کہ آپ خود ہیں۔
آپ اس بات کو بھی رد کریں گے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دیتے دیکھا تو انہیں کوڑے لگواتے تھے۔
آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے موقف کو بھی رد کریں گے کیونکہ ان کے نزدیک حلالہ کی سزا رجم تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مطابق اگر عورت کا شوہر لاپتہ ہو جائے تو وہ چار سال بعد دوسری شادی کر سکتی ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مطابق ولی کے بغیر شادی کرنے والے مردوں کی سزا کوڑے اور نکاح کا فسخ ہے۔
شرمناک مولوی! اسلام کو اپنی خواہشات کے مطابق استعمال مت کریں۔
روایت ہے کہ کسی نے امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا: “حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کا کہا تھا، اور میرے والد مجھے بھی یہی کہہ رہے ہیں۔” امام احمد نے جواب دیا: “طلاق مت دو۔ کیا تمہارا باپ حضرت عمر جیسا ہے؟”
ہم کہتے ہیں: “کیا آپ حضرت عمر جیسے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر جا کر اپنی بیٹی کی شادی 60 سالہ بوڑھے سے کرو، یا اپنے بیٹے کی شادی بوڑھی عورت سے کرو!”
اللہ حضرت عمر بن خطاب اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما سے راضی ہو، آمین۔
الف) فقیہ الامۃ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا حتمی فیصلہ:
فَالَّذِي يَظْهَرُ لِي أَنَّهُ مِنَ النَّاحِيَةِ الِانْضِبَاطِيَّةِ فِي الْوَقْتِ الْحَاضِرِ، أَنْ يُمنَعَ الْأَبُ مِنْ تَزْوِيجِ ابْنَتِهِ مُطْلَقًا، حَتَّى تَبْلُغَ وَتُسْتَأْذَنَ، وَكَمْ مِنَ امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا أَبُوهَا بِغَيْرِ رِضَاهَا، فَلَمَّا عَرَفَتْ وَأَتْعَبَهَا زَوْجُهَا قَالَتْ لِأَهْلِهَا: إِمَّا أَنْ تُفَكُّونِي مِنْ هَذَا الرَّجُلِ، وَإِلَّا أَحْرَقْتُ نَفْسِي، وَهَذَا كَثِيرٌ مَا يَقَعُ، لِأَنَّهُمْ لَا يُرَاعُونَ مَصْلَحَةَ الْبِنْتِ، وَإِنَّمَا يُرَاعُونَ مَصْلَحَةَ أَنْفُسِهِمْ فَقَطْ، فَمَنْعُ هَذَا عِنْدِي فِي الْوَقْتِ الْحَاضِرِ مُتَعَيَّنٌ، وَلِكُلِّ وَقْتٍ حُكْمُهُ.
“میرے نزدیک موجودہ دور کے نظم و ضبط کے لحاظ سے یہ بات واضح ہے کہ باپ کو اپنی بیٹی کا نکاح کرنے سے بالکل منع کر دینا چاہیے، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے اور اس سے اجازت لی جائے۔ کتنی ہی عورتیں ہیں جن کا نکاح ان کے باپ نے ان کی مرضی کے بغیر کر دیا، پھر جب وہ سمجھدار ہوئیں اور ان کے شوہر نے انہیں تکلیف دی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: ‘یا تو مجھے اس مرد سے چھڑاؤ، ورنہ میں خود کو جلا دوں گی۔’ یہ واقعہ بہت عام ہے، کیونکہ وہ لڑکی کی بھلائی کو نہیں بلکہ صرف اپنی مصلحت کو دیکھتے ہیں۔ میرے نزدیک موجودہ دور میں اس عمل کو روکنا ضروری ہے۔ ہر زمانے کا اپنا حکم ہے۔”
شرح صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب 39
𝟖. خاتمہ
پیش کردہ دلائل کی روشنی میں، چھوٹی عمر کی لڑکیوں کا نکاح بوڑھے مردوں سے کرنا اسلام میں سخت ناپسندیدہ ہے، اس لیے کہ:
الف) یہ بیوقوفی اور حکمت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ مختلف فقہی مکاتب فکر (حنابلہ، شوافع، حنفیہ) کے قدیم علما ایسے نکاح کو صراحتاً بیوقوفی کا عمل قرار دیتے ہیں۔
ب) یہ ہم پلہ (کفو) کے اصول کے منافی ہے۔ اولیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنی بیٹیوں کا نکاح نیک، موافق اور ہم پلہ مردوں سے کریں۔ عمر، جسمانی صلاحیت اور باہمی رغبت کے اعتبار سے بوڑھا مرد عام طور پر نوجوان عورت کا ہم پلہ (کفو) نہیں ہوتا۔
ب) یہ ازدواجی جھگڑوں اور ممکنہ گناہ کا باعث بنتا ہے۔ عمر میں بڑا فرق قدرتی عدم توازن پیدا کرتا ہے۔ شوہر کی عمر کی وجہ سے نوجوان بیوی کی جسمانی اور جذباتی ضروریات پوری نہ ہونے سے تلخیاں، برے برتاؤ اور بدترین صورت میں زنا جیسے گناہ کا سبب بن سکتی ہیں، جس میں غفلت برتنے والے شوہر کا بھی حصہ ہوگا۔
د) یہ عورت کے حق کشش اور انتخاب کی خلاف ورزی ہے۔ اسلامی ہدایات عورتوں کو ترغیب دیتی ہیں کہ وہ اپنے ممکنہ شوہروں کو دیکھ لیں۔ خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق اصول یہ ہے کہ “عورتیں وہی چاہتی ہیں جو مرد چاہتے ہیں” یعنی جسمانی کشش اور ہم آہنگی دونوں فریق کے لیے جائز معاملات ہیں۔ کسی نوجوان لڑکی کو بوڑھے مرد سے شادی پر مجبور کرنا اس حق کو نظر انداز کرنا ہے۔
ہ) یہ نبوی نمونہ نہیں ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے خود اپنی چھوٹی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے اپنے بزرگ صحابہ کے پیغام نکاح کو ان کی عمر کے فرق کی وجہ سے رد فرما دیا، اور ان کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا جو عمر میں ان کے قریب تھے۔
و) اس سے بھاگنا بھی جائز ہو سکتا ہے۔ موجودہ دور کے علما، نقصان اور جبر کے ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، بچپن کے نکاح کے خلاف مشورہ دیتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ باپ کو چاہیے کہ اپنی بیٹی کا نکاح اس کی بلوغت کے بعد اس کی رضامندی کے بغیر نہ کرے۔
نوٹ: یہ پوسٹ ان شادیوں پر تنقید نہیں ہے جن میں دونوں فریق پوری رضامندی سے شادی کرتے ہیں۔ بلکہ یہ ہماری معاشرے میں عام ہونے والے ان مناظر پر تنقید ہے جہاں والدین اپنی مرضی کو بیٹی کے مستقبل پر ترجیح دیتے ہیں، یا جہاں عورت کو زبردستی شادی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اور مجھے یہ مت بتائیے گا کہ آپ سمجھ نہیں رہے کہ میں کس چیز کی بات کر رہا ہوں۔